نئی دہلی 18/مئی (ایس او نیوز) کرناٹک میں بی جے پی کو سرکار بنانے کی دعوت دینے کے بعد جو تنازعہ کھڑ ا ہوگیا تھا، اُس پر سپریم کورٹ نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ کل سنیچر شام چار بجے ہی فلور ٹیسٹ کیا جائے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب بی جے پی کو کل ہی اپنی اکثریت ثابت کرنی ہوگی کہ اُن کے پاس 112 ارکان اسمبلی کا جادوئی ہندسہ ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب یڈی یورپا کو اپنی اکثریت ثابت کرنے 14 دن کی مہلت نہیں ملے گی بلکہ اُنہیں 28 گھنٹوں کے اندر اپنی اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔ سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ کے سامنے بی جے پی کی جانب سے اور کانگریس۔جے ڈی ایس کی جانب سے دلیلیں رکھی گئی۔ سب سے پہلے بی جے پی کی طرف سے سپریم کورٹ کو وہ لیٹر دیا گیا جسے یڈی یورپا کی طرف سے گورنر کو بھیجا گیا تھا۔
کانگریس ۔جے ڈی ایس کی درخواست کے خلاف افیڈیویٹ کے ذریعے مکھل روہتگی نے سپریم کورٹ میں وہ لیٹر سونپا جس میں بی جے پی کی جانب سے یڈی یورپا کو مقننہ جماعت کا رہنما منتخب کیا گیا ہے۔ مکھل روہتگی نے بی جے پی کی طرف سے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے پاس اکثریت ثابت کرنے کے لئےدرکار ارکان اسمبلی کی تعداد موجود ہے اور ہم فلور ٹیسٹ کے لئے تیار ہیں۔
بی جے پی کے وکیل مکھل روہتگی نے کہا کہ اکثریت ثابت کرنے کے لئے کانگریس اور جے ڈی ایس ارکان اسمبلی کی حمایت ملے گی اس سے آگے وہ مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ پرے پول الائنس، پوسٹ پول الائنس سے الگ ہوتا ہے اور لوگوں کو پری پول الائنس کی جانکاری ہوتی ہے۔ پوسٹ پول ،پری پول کے مقابلہ میں تھوڑا ہلکا ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آخرکار چیزیں فلور ٹیسٹ میں ہی طے ہونی چاہئے۔ آپ کو بتادیں کہ کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس نے پوسٹ پول الائنس سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آخرکار اس نمبر گیم کو گورنر کو ہی دیکھنا ہے کہ کس پارٹی کے پاس اکثریت ہے۔ . گورنر کوپہلے خود کو ہی اس بات کی تسلی کر نی چاہئے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ایڈوکیٹ سنگھوی نے سپریم کورٹ سے گورنر کی جانب سے یڈی یورپا کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کرنے کے فیصلے کے تعلق سے بھی سوال اُٹھایا، جس کے تعلق سے دس ہفتہ بعد سنوائی ہوگی، عدالت نے پہلے فلور ٹیسٹ کے ذریعے اکثریت ثابت کرنے کے لئے کہا ہے،ذرائع کے مطابق گورنروجو بھائی والا کے یڈی یورپا کو دعوت دینے کے فیصلہ کے تعلق سے دس ہفتہ بعد عدالت میں بحث ہوگی۔
کانگریس کی طرف سے ایڈووکیٹ سنگھوی نے سپریم کورٹ سے پوچھا کہ پہلے یہ طئے کرے کہ اکثریت ثابت کرنے کا موقع سب سے پہلے کسے ملنا چاہئے۔ کانگریس ۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو جن کے پاس 117 ارکان اسمبلی ہیں یا پھر بی جے پی کو جن کے پاس صرف 104 ارکان اسمبلی ہیں ۔ سنگھوی کی دلیل پر، جسٹس بوڈے نے کہا کہ جسے بھی موقع ملے گا، آخر کار سدن میں اکثریت کی طرف ہی جائے گا۔
سپریم کورٹ میں یڈی یورپا کے وکیل نے اس بات کو بھی مانا ہے کہ آج سے کل تک یڈی یورپا (وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے) کوئی بھی اہم فیصلہ نہیں لیں گے۔
کچھ اہم باتیں:
کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی طرف سے سنئیروکیل مکھل روہتگی نے عدالت سے پیر تک کاوقت اکثریت ثابت کرنے کے لئے مانگا تھا جسے بینچ نے مسترد کردیا. اس کے بدلے ، بینچ نے کل (سنیچر کو) فلور ٹیسٹ کرانے کے احکامات دئے۔
2. جسٹس سیکری نے اپنے حکم میں صاف کردیا کہ بی جے پی کےرہنما بی ایس یڈی یورپا سنیچر چار بجے تک ہاؤس میں اکثریت حاصل کرے، اورفلور ٹیسٹ سے پہلے سبھی ارکان اسمبلی کو حلف بھی دلائے۔
3. سپریم کورٹ نے فلور ٹیسٹ کے دوران بی ایس یڈییورپا کی درخواست کو بھی ٹھکرا دیا۔ عدالت کا یہ حکم بی جے پی کے لئے سب سے بڑا جھٹکا ہے.
4. عدالت کے فیصلے کے بعد، یڈییورپا نے کہا کہ ہماری حکومت فلور ٹیسٹ کے دوران اکثریت ثابت کردے گی. ان کے وکیل مکھل روہتگی نے بھی عدالت میں بحث کے دوران اس بات کا دعوی کیا تھا۔
5. کرناٹک کے وزیر اعلی یڈی یورپا کی جانب سے پیش ہوئے مکھل روہتگی نے اعلی عدالت میں کہا کہ طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے مناسب وقت دیا جانا چاہئے، کل تک کا وقت کافی نہیں ہے.
6. جسٹس اے کے سیکری کی بینچ نے یڈی یورپا سے کہا کہ وہ اکثریت ثابت کرنے تک کوئی پالیسی ساز فیصلہ نہیں کریں گے نہ ہی اس دوران وہ اینگلو انڈین کمیونٹی کے ایک شخص کو قانون ساز نامزد کریں گے۔
7. سماعت کے دوران، عدالت نے گورنر کو دئے گئے بی جے پی کے خط کا جائزہ لیا. اس میں صرف 104 ایم ایل اے کے نام تھے. وہی، کانگریس کے 116 ارکان اسمبلی کے دستخط تھے۔ یڈی یورپاکے وکیل روہتگی نے کانگریس کے دستخط والے دعوے پر سوال اُٹھائے
8. جسٹس سکری کی بینچ نے سینئر وکیل اور وکیل جیٹھ ملانی کی درخواست پر کہا کہ گورنر کے اختیاری طاقت کے معاملے پر بعد میں فیصلہ لیں گے۔عدالت نے کہا کہ گورنر سب سے اعلیٰ آئینی ادارہ ہے اور ان کے اختیاری معاملے کے مسئلہ پرسنوائی دس ہفتے بعد ہوگی۔
9. پہلے قانون ساز اسمبلی کے لئے عارضی اسپیکر مقرر کیا جائے گا۔ اعتماد کا ووٹ لینے کے عمل کی ویڈیوگرافی نہیں کرائی جائے گی. وڈیو گرافی کی مانگ کانگریس کے وکیل ابھیشک منوسنگھوی نے عدالت سےکی تھی۔
10. سپریم کورٹ نے ارکان اسمبلی کی حفاظت کی ذمہ داری ریاستی ڈی جی پی کو سونپی ہے۔ ڈی جی پی کو جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ ہر حال میں، ارکان اسمبلی کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ سپریم کورٹ نے ڈی جی پی کو حکم دیا کہ ہر حال میں سبھی ارکان اسمبلی کل (سنیچر) چار بجے حفاظت کے ساتھ ہاوس میں پہنچ جانے چاہئے۔